Gomal University

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈہ پور نے زرعی یونیورسٹی کے لیئے ڈیرہ اسماعیل خان شہر کے قریب زمین کی فراہمی سمیت گومل یونیورسٹی کے لیئے دس کروڑ کی گرانٹ اور دیگر مراعات کی فوری فراہمی کے احکامات جاری کردئیے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈہ پور نے زرعی یونیورسٹی کے لیئے ڈیرہ اسماعیل خان شہر کے قریب زمین کی فراہمی سمیت گومل یونیورسٹی کے لیئے دس کروڑ کی گرانٹ اور دیگر مراعات کی فوری فراہمی کے احکامات جاری کردئیے یہ احکامات وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے مسائل سے متعلق ایک اجلاس میں جاری کیئے گئے جس میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم ارشد خان، سیکرٹری توانائی نثار احمد، وائس چانسلر گومل یونیورسٹی ، زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ خان اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں وائس چانسلر گومل یونیورسٹی و زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر شکیب اللہ نے وزیر اعلی کو دونوں یونیورسٹیوں کے مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ زرعی یونیورسٹی کے لیئے رتہ کلاچی ریسرچ سنٹر کے ساتھ ڈیری کالونی کہ زمین فراہم کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ علاقہ کی ابادی مستفید ہو جس پر وزیر اعلی نے فوری طور پر چار سو کنال زمین ڈیری کالونی کے قریب زرعی یونیورسٹی کو دینے کا حکم جاری کردیا جبکہ گومل یونیورسٹی کے قریب الاٹ کی گئی ایک ہزار کنال زمین بدستور زرعی یونیورسٹی کی تحقیقی سرگرمیوں کے لیئے استعمال ہوگی ۔ اجلاس میں دونوں یونیورسٹیوں کودرپیش ٹرانسپورٹ کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کےلئے ہائبرڈ بسوں کی فراہمی کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے گومل یونیورسٹی میں سولر سسٹم نصب کرنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا اور اس سلسلے میں متعلقہ حکام کی مشاورت سے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے گومل یونیورسٹی کے لیئے دس کروڑ روپے کہ مالی گرانٹ کی فوری فراہمی سمیت زرعی یونیورسٹی کے لیئے سیکورٹی ہتھیار اور ٹانک کیمپس کے ترقیاتی منصوبہ کو بھی آگے بڑھانے کی ہدایات جاری کیں وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ کسی بھی ادارے کو دیر پا بنیادوں پر کھڑا کرنے کےلئے وسائل کی موثر انداز میں مینجمنٹ بڑی اہمیت کی حامل ہے، اس سے بیشتر مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے گومل یونیورسٹی کے ٹانک کیمپس کو جاری رکھنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا اور متعلقہ حکام کو اس سلسل وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ گومل یونیورسٹی صوبے کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے جس کے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صوبے میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کےلئے پر عزم ہے، اس مقصد کے دستیاب وسائل سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا۔معیاری تعلیم و تحقیق ہی قوموں کی ترقی کا زینہ بنتی ہے ، اس کے بغیر مسابغت کے اس جدید دور میں آگے بڑھنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے

Scroll to Top