Gomal University

گومل یونیورسٹی میں اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے اور قرآن فہمی کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اہم تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔

تربیتی ورکشاپ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کی جانب سے معروف مذہبی اسکالر اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر عبید الرحمن بشیر نے بطور اسپیکر و ٹرینر خصوصی شرکت کی۔ ورکشاپ میں گومل یونیورسٹی سمیت گردونواح کے تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے معلمین و معلمات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور سیشنز میں بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

ڈاکٹر عبید الرحمن بشیر نے اپنے تفصیلی لیکچر اور عملی سرگرمیوں کے ذریعے اساتذہ کو قرآن کریم کی تدریس میں جدید تعلیمی طریقۂ کار، طلبہ کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر ابلاغ، تنقیدی و تخلیقی سوچ کی حوصلہ افزائی، اور عملی مشقوں کے ذریعے سیکھنے کے عمل کو بہتر بنانے کے مختلف پہلوؤں پر جامع رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن مجید کی تعلیم محض تلاوت تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے مفاہیم، پیغام اور عملی اطلاق کو سمجھنا اور طلبہ تک مؤثر انداز میں پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ تدبرِ قرآن، تحقیق اور اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے جدید تدریسی تکنیکوں، گروپ ڈسکشن، سوال و جواب کے سیشنز اور عملی مثالوں کو اپنی تدریس کا حصہ بنائیں تاکہ طلبہ نہ صرف قرآن کو سمجھ سکیں بلکہ اپنی عملی زندگی میں اس کی تعلیمات کو نافذ بھی کر سکیں۔

ورکشاپ کے دوران سوال و جواب کا خصوصی سیشن بھی منعقد کیا گیا جس میں اساتذہ نے تدریسی امور سے متعلق مختلف سوالات اٹھائے اور ماہرِ تعلیم نے تفصیلی جوابات فراہم کیے۔ شرکاء نے اس تربیتی پروگرام کو نہایت مفید اور معلوماتی قرار دیتے ہوئے مستقبل میں بھی ایسے علمی و تربیتی سیشنز کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔

تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ قرآن کریم کی تعلیم کو جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اسے مؤثر اور بامقصد بنایا جائے گا۔

Scroll to Top