Gomal University

گومل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر زیر گردش خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے وضاحت جاری کی ہے کہ یونیورسٹی کے مالی معاملات سے متعلق پھیلائی جانے والی اطلاعات بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق رواں ماہ ملازمین کو بنیادی تنخواہ ادا کر دی گئی ہے۔ چونکہ عیدالفطر کا مہینہ ہے اور اس مہینے دو تنخواہیں ادا کی جانی ہیں، اس لیے انتظامیہ اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے 15 مارچ سے قبل ایک اضافی تنخواہ بھی ادا کر دے گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام ادائیگیاں بغیر کسی بیرونی تعاون کے یقینی بنائی جا رہی ہیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ طلبہ کی جانب سے فیسوں اور ہاسٹل فیس کی مد میں تقریباً 75 کروڑ روپے کے بقایاجات واجب الادا ہیں۔ ان بقایاجات کی وصولی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس ضمن میں سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور منسٹر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھی باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا ہے، جبکہ بقایاجات کی بروقت وصولی کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

سلیکشن بورڈ کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے انتظامیہ نے کہا کہ تاحال کسی قسم کے نئے آرڈرز جاری نہیں ہوئے اور نہ ہی کوئی نئی تنخواہ مقرر کی گئی ہے۔ موجودہ مالی بوجھ کے مطابق یونیورسٹی ہر ماہ تقریباً 11 کروڑ روپے پنشن اور 14 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں ادا کر رہی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام رقم ہر ماہ بغیر کسی اضافی معاونت کے ادا کی جا رہی ہے۔

وائس چانسلر اور ان کی ٹیم نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کسی بھی ملازم کی ایک روپیہ بھی بقایا رقم آئندہ مالی سال میں منتقل نہیں ہونے دی جائے گی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ ادوار میں غیر ضروری کنٹریکٹ پر کی گئی بھرتیوں کے جائزے کے لیے قائم (ایچ آر ریشنلائزیشن) کمیٹی نے اپنی سفارشات جمع کرا دی ہیں، جن پر آئندہ چند روز میں عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔

انتظامیہ نے واضح کیا کہ جامعہ شفافیت، احتساب اور قانون کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتی ہے، لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غیر مصدقہ خبروں پر توجہ نہ دی جائے۔

آخر میں یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام ملازمین، پنشنرز، طلبہ اور والدین کو یقین دلایا کہ ادارے کے مالی و انتظامی استحکام کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات جاری ہیں، اور جامعہ کی ترقی و استحکام اولین ترجیح ہے۔

Scroll to Top