اس ادبی و ثقافتی میلے میں رجسٹرار گومل یونیورسٹی ظاہر شاہ مروت نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی،اس موقع پر مختلف شعبہ جات کے سربراہان، اساتذہ، طلبہ، ادباء، شعراء، صحافیوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
رجسٹرار ظاہر شاہ مروت نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس نوعیت کی علمی و ادبی سرگرمیوں کا مقصد طلبہ میں تعلیمی شعور کے ساتھ ساتھ مثبت اور تخلیقی رجحانات کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے قومی سلامتی کے لیے ان کی قربانیوں کو سراہا۔ مزید برآں انہوں نے ڈائریکٹر ٹانک کیمپس ڈاکٹر احسان اللہ دانش’ ڈاکٹر صاعقہ صدیق دانش’ ڈاکٹر قیصر انور اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور یقین دلایا کہ گومل یونیورسٹی میں ایسے مثبت پروگراموں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
فیسٹیول کے دوران مصنفین اور مترجمین کی علمی گفتگو، مختلف موضوعات پر پینل ڈسکشنز، آرٹ نمائش بتعاون آرٹسٹ فاروق سیال’ تنویر شہروز اور جمشید میتھیو؛ اور نیشنل بک فاؤنڈیشن ڈیرہ اسماعیل خان کا سجایا گیا کتاب میلہ خصوصی توجہ کا مرکز رہے۔ مہمانِ خصوصی اور دیگر معززین نے کتابی اسٹالز اور تصویری نمائش کا دورہ بھی کیا۔ اس موقع پر انگریزی ڈیپارٹمنٹ کے پہلے journal (Gomal Journal of Literary and Linguistic Studies) کا اجراء بھی کیا گیا اور کیک کاٹا گیا-
ادبی نشست میں بطور پینل ماڈریٹر قیس رضا نے نظامت کے فرائض انجام دیے، جبکہ حفیظ گیلانی اور عنایت عادل ایڈووکیٹ نے اپنی کتب کے حوالے سے سیرحاصل گفتگو کی۔ مولانا شرافت علی شاہد نے اپنی نعتیہ کتاب پر تفصیلی روشنی ڈالی جبکہ شاعر شاداب ارشد و ساتھی شعراء نے اپنا کلام پیش کر کے حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔
فیسٹیول کے دوسرے دن کا آغاز سینیر صحافی محمد ریحان کی زیرِ نظامت پینل ڈسکشن سے ہوا جس میں ڈاکٹر فضل الرحمان، عرفان مغل اور ابولمعظم ترابی نے میڈیا کے مثبت کردار اور سماجی ذمہ داریوں پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
ڈسٹرکٹ اٹارنی ضلع ٹانک ڈاکٹر فرحاج سکندر یار (تمغہ امتیاز) نے انسانی بنیادی حقوق کے قانونی و سماجی پہلوؤں پر جامع گفتگو کرتے ہوئے نوجوانوں کو آئینی شعور اپنانے کی تلقین کی۔
دو روزہ ادبی میلے کے اختتام پر معزز مہمانوں، مقررین اور منتظمین میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔ شرکاء نے اس فیسٹیول کو علمی، ادبی اور ثقافتی اعتبار سے ایک کامیاب اور یادگار سرگرمی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ برسوں میں بھی اس روایت کو برقرار رکھا جائے گا۔
یہ دو روزہ دوستی لٹریچر فیسٹیول نہ صرف طلبہ بلکہ اہلِ شہر کے لیے بھی فکری و تخلیقی اظہار کا مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوا، جس نے تعلیمی ادارے اور معاشرے کے درمیان مضبوط تعلق کو مزید مستحکم کیا۔ آخر میں ڈاکٹر احسان اللہ دانش نے وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد ظفر اقبال، رجسٹرار ظاہر شاہ، ڈاکٹر قیصر انور ،ڈاکٹر صاعقہ صدیق دانش تمام معزز شرکاء آرٹسٹ حضرات تمام ساتھیوں و منتظمین نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سیکریٹری جناب مراد علی مہمند اور سٹاف نزاکت اور نعمت دوستی پشاور لٹریچر فیسٹیول کی انتظامیہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا اور امید کی آئندہ بھی اس سلسلے کو جاری رکھنے میں ان کا ساتھ اور تعاون شامل رہے گا-