کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کے لیے گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کی قیادت میں گومل یونیورسٹی میں یکجہتی واک کا انعقاد کیا گیا۔ واک میں ممبر سنڈیکیٹ جسٹس داؤد خان سمیت اساتذہ، طلبہ ، ڈینز اور مختلف شعبہ جات کے سربراہان نے شرکت کرتے ہوئے کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اظہار کیا۔
واک کا انعقاد ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس افیئرز کے زیر انتظام کیا گیا۔ شرکاء نے کشمیر کے پرچم، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر کشمیری عوام کے حق میں نعرے درج تھے۔ اس موقع پر شرکاء نے کشمیری عوام کے بنیادی حقوق، آزادی اور حقِ خودارادیت کی حمایت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ظفر اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء کشمیری تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، جب بھارتی افواج جموں و کشمیر میں داخل ہوئیں اور خطے پر بھارتی قبضے کا آغاز ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سے کشمیری عوام مسلسل مشکلات، جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ قتل، پیلٹ گنز کا استعمال، خواتین کے خلاف تشدد اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عالمی ضمیر کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں سفارتی محاذ پر کشمیر کے حوالے سے اپنی پالیسی کو مزید متحرک کرنا ہو گا عالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کے حوالے سے عسکری اور سیاسی قیادت کے فعال کردار کی دنیا متعرف ہے،ہمیں میڈیا کے محاذ پر بھی بھارتی پروپیگنڈے کے خلاف نئی نسل کو نہ صرف آگہی فراہم کرنی ہو گی،بلکہ اسکے سدباب میں بھی متحرک کردار ادا کرنا ہوگا ۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ظفر اقبال نے کہا کہ بھارت نے کشمیری عوام میں اپنی شناخت حقوق اور مستقبل کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھایا۔ تاہم، تمام تر مشکلات کے باوجود کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق اور حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ثابت قدم ہیں، اور ان کی جدوجہد آزادی اور انصاف کے اصولوں کی عکاس ہے۔
وائس چانسلر نے واضح کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور حقِ خودارادیت کا بنیادی مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔